Sunday, 28 June 2020
The Crucible Summary in Urdu
Thursday, 25 June 2020
Silent K
Monday, 22 June 2020
ریٹرن آف دا نیٹیوکی سمری ان اردو Return of The Native Summary in Urdu
![]() |
| Return Of The Native |
Friday, 19 June 2020
Pride and prejudice Summary in Urdu پرائڈ اینڈ پریجوڈس کی سمری اردو میں
Friday, 12 June 2020
A Tale of Two Cities Summary in Urdu
Monday, 8 June 2020
Doctor Faustus Summary in Urdu
خلاصہ“Heart of Darkness
Conrad; 1857-1924 ان اردو ٹرانسلیشن
![]() |
Sunday, 7 June 2020
Prologue to the Canterbury Tales : Summary
چوسر (١٣۴٠ سے ١۴٠٠)
Saturday, 6 June 2020
جان کیٹس (John Keats) انگریزی ادب کا ایک عظیم شاعر
جان کیٹس (John Keats) انگریزی ادب کا ایک عظیم شاعر اور رومانوی تحریک کی ایک اہم شخصیت تھا۔ اس کی خوبصورت شاعری حسوں کو متاثر کرتی ہے۔ اردو شاعرہ پروین شاکر نے کیٹس کو شاعر جمال کہا ہے۔
کیٹس 31 اکتوبر 1795ء میں انگلستان کے شہر لندن کے قریب فنزبری میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ جلد ہی فوت ہو گیا۔1811ء میں اس نے سکول سے فارغ ہو کر ایک سرجن تھامس ھامنڈ کے ساتھ سرجری سیکھنے لگا اور جولائی 1815ء اس نے امتحان پاس کر لیا۔ مگر سکول چھوڑنے کے پہلے زمانے میں ہی اس کو شاعری سے شغف ہو گیا تھا اور اس نے کلاسیکل ادب پڑھنا شروع کر دیا تھا اور اس میں اس کے دوست چارلس کوارڈن کلیرک کا بڑا حصہ ہے۔ پھر جان کیٹس نے خود کو شاعری کے لیے وقف کر دیا۔ وہ لندن کے مشہور شاعروں سے ملا۔ دوستوں کی حوصلہ افزائی نے اسے سنجیرگی سے لکھنا شروع کر دیا۔ مارچ 1817ء اس کی ایک شاعری کی کتاب شائع ہوئی۔ اور پھر اپریل 1818ء میں ایک اور کتاب شائع کی۔
1818ء میں جان کا بھائی ٹام مر گیا اور دوسرا بھائی جارج شادی کر کے امریکا چلا گیا۔ یوں جان کیٹس پریشان اور تنہا رہ گیا۔ لیورپول سے سکاٹلینڈ تک ایک سفر میں جان کیٹس بیمار ہو گیا اور یوں اس کی بیماری بڑھتی گئی۔
اکتوبر 1818ء میں جان کو مس فینی براونئ سے پیار ہو گیا مگر فینی کی ماں نے یہ کہہ کر رشتہ دینے سے انکار کر دیا کہ شاعر لوگ ہمیشہ بھوکے مرتے ہیں۔
بیماری اورشادی سے انکار نے اس کے تخئیل سے وہ اشعار نکالے کہ جان کیٹس کی پچیس سالہ زندگی امر ہو گئی۔ فروری 1820ء وہ ایک ماہ بستر پر رہا اور ستمبر 1820ء کو اسے انگلستان سے اٹلی لے جایا گیا کیوں کہ اس کی زندکی کی آخری امیر یہ ہی تھی۔ مگر 23 فروری 1821ء کو یہ عظیم شاعر صرف پچیس سال کی عمر میں اٹلی کے شہر روم میں مر گیا۔
رومانوی تحریک کی شاعری کی خوبیاں کیٹس کی شاعری میں موجود ہیں۔ کیٹس اپنی زندگی میں اتنا مشہور نہیں تھا جتنا کہ دوسرے شاعر مثلا بائرن لیکن کیٹس اپنی شاعری میں اتنی پرفکشن کا قائل تھا کہ آہستہ آہستہ اس کی فنی خوبیاں لوگوں کے سامنے آتی گیئں اور وہ مقبول ہوتا گیا۔ اس کے کچھ مصرعے زبان زد عام ہیں مثلا:
.A thing of beauty is a joy forever
.She walks in beauty
بشکریہ وکی پیڈیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر روبینہ جیلانی
اٹھارویں صدی میں یورپ میں انسانی اور سیاسی آزادی اور قدرتی عروج اور بلندی کے ردعمل کے نتیجے میں رومانی دور شروع ہوا۔1800-1860 تک رومانیت کی ادبی تحریک غالب رہی۔ کیٹس انگریزی ادب میں19 صدی کا سب سے مقبول ترین شاعر تھا جس نے اتنی کم عمری میں اپنا مقام بنایا کیونکہ وہ26 سال کی عمر میں دنیا چھوڑ گیا۔ وہ شروع میں بہت سے شعرا کے زیر اثر رہا اور اپنی طاقت پڑھنے مطالعہ کرنے، سوچ بچار، غورو فکر اور تحصیل علم میں استعمال کرتا تھا، کیٹس شاعرانہ احساس، کیفیات، ادراک، اور ہیجان انگیز جذبات کا ماہر تھا۔ تصور کی سچائی پر یقین رکھتا تھا۔ علم روح انسانی جانتا تھا اور بے مثال مفکر تھا۔
کیٹس شاعری میں اصول پرستی، مثالیت اور تصوریت کا حامی تھا۔ اس کےلئے شاعری اخلاقی قدروں، اوج کمال اور نقطہ عروج تھی، حوصلہ مندی اور بلند نظری کا قائل تھا اگر اس کی شخصیت دیکھی تو وہ خوش باش، زندہ دل اور مستقبل مزاج رکھتا ہے مگر کئی نقادوں کے قبول خبطی، تنگ دل، کاہل اور آرام طلب جانا جاتا تھا۔ یہ سچ ہے کہ اس کا شوق صرف شاعری پڑھنا لکھنا اور ذکر کرنا تھا اس کےلئے اس نے اپنا پیشہ چھوڑا اور یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ وہ بہت اچھا سرجن اور فزیشن تھا مگر اس نے اپنی زندگی ادب کےلئے بھینٹ چڑھا دی۔
وہ بائرن Byron سے متاثر تھا۔ شیلےShelley اس سے متاثر تھا۔ اس کے لئے شاعری غیر فانی اور دائمی تھی۔ وہ درمندانہ، ہمدردانہ اور جذبات پرست تھا۔ اس کی سب سے پہلی Sonnet
O' Solitude اور Homer کے عنوان پر ایک اخبار کے ایڈیٹر Hunt ہنٹ نے شائع کی اور اس کا Words worth سے تعارف کروایا۔ اس کا پہلا شعری مجموعہ 1817ء میں شائع ہوا جسے سب نے بہت پسند کیا کیونکہ وہ نئے انداز کی شاعری تھی۔ دوسرا مجموعہ Endymion میں اس نے ایک نئی دنیا دریافت کی اور یونانی مافوق الفطرت کی کہانی لکھی جو پریوں کے دیس اور جادو کی کہانی ہے، اس میں وہ کہتا ہے کہ میرا جیسا شاعری سے محبت کرنے والے شاعر کو بھٹکنا چاہئے، نئی لفظی تصویروں کےلئے اور لطف اندوز باغات کی سیر کرنے کےلئے یہ شاعری کی کتاب رومانی رزمیہ داستان ہے۔
ان نظموں کے لئے اس نے اپنی شاعرانہ قوت، امقانات، قابلیت اور اہلیت پر انحصار کیا۔ یہ مجموعہ چار ہزار لائینز کی یونانی عاشقانہ لوک کہانی ہے۔ Endymion بیانیہ انداز کی لمبی نظم ہے۔ اس وقت دو انگریزی رسالوں Q. Review اور Black Wood نے کیٹس کے مجموعے پر بہت تنقید کی یہاں تک کہا گیا کہ اسے شاعری چھوڑ دینی چاہئے۔
کیٹس کے بقول شاعری اکتا دینے والی زندگی کی حقیقتوں سے فرار کا نام ہے یہی وجہ ہے کہ اس کی نظموں میں جاذب نظر اور دلکش چھُپنے کی جگہوں کا ذکر آتا ہے۔ آنکھ محلولی، پوشیدہ اور نظروں سے اوجھل ہو جانے کا ذکر بہت آتا ہے۔ وہ پھولوں کی جگہ دھونڈتا ہے جو جدا جنگلی اور رومانی ہو۔ اس پر وہ کہتا ہے کہ ایک وادی ہو یا چھوٹی سی جگہ ہو جو شاخوں سے گھری ہوئی ہو، بیلوں اور پھولوں سے ڈھکی ہو۔ بلبل کا گانا ہو، گوشہ تنہائی کا نمونہ ہو۔ یہی اس کی بہشت (جنت) ہو جہاں اسے روحانی سرور، لطف اور آرام ملے الگ تھلک اس کی پسندیدہ جگہ ہے۔ لمبی گھاس اور گہری وادی ہو، زرد رنگ کے پھولوں کے گچھے ہوں اس نے اپنی شاعری میں کوئی بھی تصوراتی خوشی، لذت اور راحت ایسی نہیں ہے جس پر اس نے دھیان نا دیا ہو۔ فطرتی مناظر اس کےلئے رومانی کہانیاں بنتے ہیں اور وہ اپنے تخیل کے اظہار کرتے ہوئے غیر یقینی ترکیب ، کلام، بحر اور فنکارانہ بے قائدگی میں ملوث ہو جاتا ہے وہ انسانی محبت، دکھ، غم اور بے تعلقی کو بلاغت کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ وہ زندگی کے رنگ اور بے رنگ، ہنگامہ اور بے قراری، ساز اور خاموشی، گرم اور سر د کے درمیان فرق بتاتا ہے۔ اپنے دور کی خانہ جنگی، فساد اور غیر یقینی حالات قلم کرتا ہے اور باہر کی دنیا اور اندر کے جوش اور ہوش بتاتا ہے۔
وہ بھی تو انسان کے لئے خوبصورتی کی اہمیت بتاتا ہے وہ دراصل ظاہری فطرتی حسن بیان کر کے انسان کے ضمیر اور روح کی صفائی بیان کرتا ہے۔ قدرتی مناظر فطرت کے ذریعے وہ جنت میں انسان کے بننے کا ذکر چھڑتا ہے جہاں باغوں میں اللہ نے اسے تخلیق کیا اسی وجہ سے انسان مناظر قدرت کی طرف کھنچتا چلا آتا ہے وہ دراصل اپنا گھر ڈھونڈتا ہے۔ وہ بہشت جو اس سے چھن گئی، اسی میں وہ پناہ چاہتا ہے۔ کیٹس کے خیال میں سچائی فانی نہیں ہوتی۔ وہ حسن کے انتہائی معیار کو کھوجتا ہے۔ قدرتی جمال سے خوشنما الفاظ سے اس بدنما دنیا سے کچھ دیر کیلئے چھٹکارا حاصل کرتا ہے یعنی وہ حقائق کا سامنا کرنے کے بجائے ان سے فرار راستہ بناتا ہے۔
اس کی نظم Sleep + Beauty عمدہ اور دلآویز قدرتی عکس پیدا کرتی ہے، خوش نمائی بیان کرتی ہے اور خوبصورتی کو انسان کی نفسیاتی حس قرار دیتی ہے اور انسانی زندگی کی جدوجہد اور تکلیف بیان کرتی ہے۔
1820ءمیں کیٹس کا مجموعہ شائع ہوا جس میں Lamia ،Eve of St. Agnes ،I sa bella اور دوسری نظمیں چھپیں جو من گھڑپ دیوی دیوتاﺅں کے قصوں، قدیم دور، قرون وسطیٰ اور نشاة ثانیہ کے زمانے کے موضوع کو نئے انداز میں بیان کیا ہے جو علامتوں ، جزو جملہ اور الفاظ میں زرخیز ہیں۔ ان نظموں میں محبت کی کہانی بیان کی گئی ہے جو ہر ایک مختلف جگہ دور اور ذرائع سے لی گئی ہے۔ Lamia کا ہریو محبت میں ناکامی کے غم سے دنیا چھوڑ جاتا ہے۔ آئی سا بیلا کا ہیرو جس سے پیار کرتا ہے اسی کے بھائیوں کے ہاتھوں قتل ہو جاتا ہے اور Eve of St. کا ہیرو اپنی محبوبہ کے ساتھ فرار ہو جاتا ہے۔
اس تیسرے مجموعے میں انگریزی ادب کی بہترین Odes شامل ہیں۔ Grecian Urn، Nightingale اورMelancholy اور دیگر Odes آج بھی دنیا بھر کے تعلیمی اداروں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ جن کے بغیر انگریزی ادب مکمل نہیں ہوتا۔ یہ Odes فلسفیانہ ادراک، ذہانت، شعور کے اظہار، فطری مشاہدے،کلاسیکی رومانویت، سادہ لوگوں کی زندگی معنی خیز شاعری اور روم اور یونان کی ہمہ گیر شاعرانہ کارنمایاں پر مبنی ہیں۔ Ode to May ،Ode to Psyche میں وہ محبت اور حسن کی تلاش میں رہتا ہے، موت کے خوف کے متعلق بتاتا ہے۔ وہ عجیب و غریب، انوکھی اور نرالی شعر و سخن اور شعر گوئی احسن طریقے سے بیان کرتا ہے۔ اس نے کئی نظمیں شیکسپیئر کے اسلوب میں لکھی ہیں۔ کیٹس ملٹن اور وڈز ورتھ کے معیار تک پہنچنا چاہتا تھا۔ ملٹن نے Paradies عسائیت مذہب پر مبنی ہے۔ وڈزورتھ خود ساختہ فلسفے کو اپنا معیار بناتا ہے مگر کیٹس یونان اور روم کی کلاسیکی روایت کو برقرار رکھتا ہے۔
Hyperion کیٹس کی ملٹن کی بے قافیہ رزمیہ مثنوی ہے جو دیومالا کے اسلوب اور موضوع پر لکھی گئی ہے اور یہ اس کی ادبی کامیابی کا سنگ میل ہے جس میں اس نے My Mology کی Gods+Goddesses بادشاہوں کے ادوار اور لوگوں کی ذہنی کرب، دماغی الجھن اور جھگڑوں کو بیان کرتی ہے۔ یہ Abstration کو اہم سمجھتی ہے۔
کیٹس Vision،Despair اور Idealism کو ضرورت سے زیادہ اہم سمجھتا ہے۔ وہ خوبصورتی کو سچائی بتاتا ہے۔ فن اور قدرت سے ان کی اہمیت بتاتا ہے اور کہتا ہے ہے کہ یہ بنی آدم کا نصب العین ہیں۔
That is all، Truth beauty،Beauty is truth یعنی حسن اور سچ انسان کی باطنی، ذہنی، معنوی، مثالی اور معیار ہیں۔
وہ Fanny Brawne سے محبت کرتا تھا مگر وہ شادی نہ کر سکا کیونکہ وہ ٹی بی کا مریض تھا۔ 1848 میں اس نے اپنے خطوط کے ذریعے شاعرانہ شناخت کو دریافت کیا جسے کہ ورڈز ورتھ نے The Prelude کے ذریعے اپنے آپ کو ڈھونڈا وہ 23 فروری کو 1821 میں 26 سال کی عمر میں انتقال کر گیا۔
100 LITERARY QUOTES
100 LITERARY QUOTES Here are 100 literary quotes from various authors and works: "It is a truth universally acknowledged, that a sing...
-
ا یکٹ I: ڈرامہ او تھیلوکا پہلا سین رات کے وقت شہر وینس میں شروع ہوتا ہے روڈریگو اور Iagoآپس میں باتیں کررہےہیں Iago ، جو کیسیو کو اوتھیل...
-
Conflict between Morality and Immorality in “Othello” Shakespeare’s drama ‘Othello’ is one of conflicting morals, ethics and values, and...
-
ڈاکٹر فوسٹس: خلاصہ وٹن برگ کے ایک باصلاحیت جرمن اسکالر ، ڈاکٹر فوسٹس ، انسانی علم کی حدود سے بالاتر ہیں۔ اس نے روایتی تعلیمی شعبوں سے وہ سب ...










