جعفری چاسر کو انگریزی زبان کا باوا آدم مانا جاتا ہے۔
مگر اس کا یہ مطلب نہیں لینا چاہیے کہ وہ انگریزی زبان کا پہلا شاعر تھا اس سے پہلے بھی کئی شعراء گزرے ہیںجو بہت مشہور تھے اور ان کا کلام بھی تاریخ میں محفوظ ہے ۔ لیکن انگریزی زبان میں اس قدر تبدیلیاں آ چکی ہیں قدیم انگریزی زبان کو سمجھنا ہمارے لیے آسان نہیں رہ گیا ہے۔ علاوہ ازیں تعریفی شاعری کا بہت بڑا حصہ ماضی میں دب گیا ہے۔
اس کے برعکس چاسر کا سارا کلام موجود ہے۔
چوسر اپنے وقت کے اونچے گھرانے سے تعلق رکھتا تھا ۔وہ شاہ ایڈورڈ سوئم کے درباریوں میں سے تھا ۔اس وقت کی درباری زبان فرانسیسی تھی اطالوی کو علمی اور ادبی اہمیت حاصل تھی ۔چوساڑے اپنی شاعری کی ابتدا فرانسیسی سے کی پھر اطالوی میں شہر کا ہے اور پھر اپنی ملک کی زبان کی طرف متوجہ ہوا اس نے اطالوی اور فرانسیسی اساتذہ سے بہت زیادہ فائدہ اٹھایا ۔اس کے عہد میں سارے یورپ کا مذہب عیسائیت تھا ۔لہذا ان کی شاعری کے مزاج میں بھی یکسانیت پائی جاتی تھی ۔اسی وجہ سے چوسر کی مقبولیت جلد ہی برطانیہ سے نکل کر اٹلی فرانس اور دوسرے ممالک تک جا پہنچی ۔
ٰچاسرکی تخلیقات ایک بہت بڑی یادگار کی صورت میں موجود ہیں ۔لیکن کینٹربری ٹیلز اس میں سب سے زیادہ مشہور ہیں ۔جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جو سامنے اس کے ذریعہ اپنے وقت کے انگلستان کی صحیح تصویر کشی کی ہے ۔اس میں قصے کہانیوں کے علاوہ مختلف پیشے اور خلافت کے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی منظرکشی بڑے دلچسپ طریقے سے کی گئی ہے ۔اس قسم کی ایک اور نظم دی سکوائر کا ترجمہ اوپر موجود ہے ۔اس نظم میں شاعر کے انداز بیاں کا اچھی طرح اندازہ لگایا جاسکتا ہے اس نے اس وقت کے رہن سہن کو کتنی خوبصورتی سے الفاظ میں سمو دیا ہے ۔


No comments:
Post a Comment